ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سماج میں تبدیلی لانے والے قائد کو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے: سدارامیا

سماج میں تبدیلی لانے والے قائد کو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے: سدارامیا

Sun, 21 Aug 2016 11:36:12    S.O. News Service

دیو راج ارس کو زبردست خراج عقیدت ۔ارس کمزور طبقات کی مدد کرنے والی عظیم شخصیت

بنگلورو۔20؍اگست (ایس اونیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے آج کہاکہ سماج میں تبدیلی لانا مشکل کام ہے۔ یہ کام سیلاب میں مخالف سمت تیرنے کے برابر ہے۔ جن لوگوں نے سماج میں تبدیلی لانے کا مشکل کام انجام دیا اور سماج میں تبدیلی لائی ایسی شخصیات کو لوگ ان کے دنیا چھوڑکر جانے کے بعد بھی یاد کرتے ہیں۔ شہر کے کنٹیروا اسٹیڈیم میں آج منعقدہ سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ڈی۔ دیو راج ارس کی 101 ویں سالگرہ کے موقع پر سابق وزیر بی اے محی الدین کو ریاستی سطح کے ارس ایوارڈ سے نوازنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہاکہ تبدیلی لانے والے ہمیشہ سماج کی ایک یادگار بن کر لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ سماج کے حق میں کام کرنے والوں کا مقام الگ ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ سماج میں تبدیلی کی مخالفت کرنے والی قوتوں کی کمی نہیں۔ لیکن سماج میں تبدیلی لانے کا عزم رکھنے والے لوگ ان قوتوں کی پروا نہیں کرتے۔ اچھے کاموں کی مخالفت کرنے والے ہر دورمیں رہتے ہیں۔ ان کی پرواہکئے بغیر جو سماج کی فلاح وبہبودی کے لئے کام کرتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آنجہانی ڈی دیو راج ارس کے دور میں بھی ان کے اچھے کاموں کی مخالفت کرنے والے بہت لوگ تھے اور میرے دور میں بھی ہیں۔ اس کا مجھے کافی تجربہ ہوگیا ہے۔ سدارامیا نے کہاکہ مخالفت کرنے والے لوگ چاہے جتنی بھی مخالفت کریں لیکن سماج میں تبدیلی لانے کا کام نہیں رکے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں دیو راج ارس کا دور سنہرا دور رہا۔ ارس غریب پرور تھے وہ ہمیشہ کمزور طبقات اورغریبوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے۔ عوام کی خدمت کرنے کے لئے موقع کی تاک میں رہتے اور انہوں نے کبھی بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے خدمت نہیں کی۔ 


زمین سدھار: انہوں نے بتایا کہ شری ارس اپنے دور اقتدار میں زمین سدھار قانون کو نافذ کرکے جائیداد کو سماج کے تمام طبقات میں تقسیم کیا اور مالدار زمینداروں کی زمینات مذکورہ قانون کے تحت قبضہ کرکے غریب کسانوں میں تقسیم کروایا۔ ہوانور کمیٹی تشکیل دے کر اس کمیٹی کے ذریعہ ریزرویشن پالیسی کو نافذ کیا۔ موصوف سماج میں تبدیلی لانے کے پیامبر ہیں جنہوں نے اپنے دور میں غریبوں وکمزور طبقات کی ترقی اور فلاح وبہبودی کے لئے مختلف پروگراموں کو جاری کروایا۔ میسور مہاراجہ کرشنا راج وڈیر کے نمونہ پر ریاست میں پہلی بار ملر کمیشن قائم کرکے اس کی سفارشات پر برہمنوں کو اعتماد میں لے کر تمام طبقات کے لئے ریزرویشن مقرر کروایا۔ اس طرح شری ارس نے سماج کو انصاف دلوایا۔ شری دیو راج ارس کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سدارامیا نے کہاکہ دیو راج ارس ریاست میں دوبارہ پیدا نہ ہونے والا ایک منفرد لیڈر ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا مجھے موقع نہیں ملا لیکن ارس کا میں بہت احترام اور عزت کرتا ہوں حالانکہ درمیان میں انہوں نے کانگریس کو چھوڑ دیا تھا اس کے باوجود وہ کانگریس کی قدر کرتے۔ انہوں نے کہا دیو راج ارس کے اصول تمام سیاستدانوں کے لئے نمونہ ہیں۔


محی الدین کے تاثرات: ارس ایوارڈ یافتہ بی اے محی الدین اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک اور ریاست میں اس وقت نفرت اور فرقہ پرستی کا ماحول چھایا ہوا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کو چاہئے کہ وہ ریاستی عوام کو نفرت اور فرقہ پرستی سے پاک انتظامیہ کو یقینی بناکر سدارامیا ، آنجہانی دیو راج ارس کے دور اقتدار کی یاد کو تازہ کریں۔ ان دنوں دلتوں اور اقلیتوں پر ہورہے مظالم کی روک تھام اشد ضروری ہے ورنہ دیو راج ارس کا خواب چکنا چور ہوجائے گا۔ اس تقریب میں ریاستی وزراء آر روشن بیگ ، ایچ آنجنیا،بسوراج رائے ریڈی، اماشری ، سابق وزیراعلیٰ ورکن پارلیمان ایم۔ویرپا موئیلی ، شہری دیو راج ارس کی بیٹی بھارتی ارس کے علاوہ کئی ایک لیڈروں اور اعلیٰ افسروں نے شرکت کی۔ 


Share: